وہ کرسی پر بیٹھا کب سے مسکرا رہا تھا۔
کبھی دور پہاڑوں پر تیرتےبادلوں میں گم ہو جاتا۔
اس کی بیوی ،جو صبح سے اس کی طبیعت میں اداس مسکراہٹ کو محسوس کیے بغیر نہ دہ سکی،بولی۔
"پہلے تو آپ مجھے دیکھ کر مسکراتے تھے۔ مگرآج صبح سے کہاں کھوئے ہیں ۔"
چند آنسو اس کے ضبط سے نکل کر اس کے دامن پر آ گرے۔
"عبادت کر رہا تھا ۔"
اس نے ہاتھ میں پکڑی ماں کی تصویر کو بٹوے میں ڈالتے ہوئے کہا ۔
