Sunday, 13 September 2015

فراق ...


قصہ ہے روایت ہے
چاہت میں ذرا ڈوبی
چند لفظوں کی حکایت ہے

وہ بیٹھی سامنے بولی
ہم یوں بھی تو پتھر ہیں
پتھر کی اس دنیا میں
پتھر کب راس دیوانے کو

!سنو
کیا مستقبل اس پتھر کہانی کا
کہیں دریچے ہیں مقفل
اور کہیں قصہ جوانی کا

پیروں میں بیڑیاں بھی تو ہیں
اڑنے کی چاہت لیے دل میں
قفس میں دل چہچہاتے ہیں

چلو یوں کرتے ہیں پتھر صنم
ہم یہ نہ ناطہ توڑ دیتے ہیں
جہاں مستقبل کی آس ہی نہ ہو
وہ درد رشتہ توڑ دیتے ہیں

شروع میں ، ہاں ، تھوڑا مشکل ہو گا
چاند آنگن میں اماوس بن کے اترے گا
تمہاری یاد کے جھونکے تن بدن سے
نشتر کی مانند روح میں اتریں گے

کئی روز آنکھیں بھی تو سوجیں گی
کئی دن کاجل بھی تو پھیلے گا
مگر وقت کی گرد ان جسموں کو
پھر سے پتھر ہی بنا ڈالے گی

بڑی چاہت سے بڑھا آگے
ہاتھ تھامے کرب سے بلبلایا وہ
چہرے پر بے معنی سا خالی پن لیے
سکوت اس ماتمی سی شام کا توڑا

اچھا چلو ہم مان لیتے ہیں
صنم پتھر کدوں کی ہی زینت ہیں
جہاں ہر تراشے خوبصورت بت کو
زمانے کی سچائیاں توڑ دیتی ہیں

مگر کیا ہر ستارے کو دوام حاصل ہے
کیا ہر کہانی کا کوئی انجام ہوتا ہے
ادھورے لفظ اور نظمیں بھی تو ہوتی ہیں
ادھورے نامکمل لوگوں کو بھی دیکھا تم نے
بہت سے پھول بھی تو ادھ کھلے ہوتے ہیں

چلو ہم ناطہ توڑ دیتے ہیں
مگر کچھ مانگنا ہے تم سے
اک بار پھر سے چاہت سے
کچھ حروف خالی پنوں پر
میرے نام ہی لکھ ڈالو

ضروری نہیں کے ان کا مطلب ہو
میں ہر روز فرقت میں پریشاں بیٹھے
پنوں پر میں حرفوں کو ملا کر سجاؤں گا
اور پھر اپنی مرضی، اپنی عادت سے
نیا اک لفظ، نیا مطلب بناؤں گا

چلو اک آخری وعدہ بھی کر لو
تم اپنا آپ واپس لے لو مجھ سے
مگر یہ آنکھیں میرے نام رہنے دو
بھلے ان سے کبھی نہ دیکھنا مجھ کو

دعا ہے جلد مسکرانا سیکھ لو تم
اور میری حقیقت کو بھی بھلا دینا
بس اک بات ابھی سے زہن نشیں کر لو

مجھے تمہاری ان "میری" آنکھوں میں
یہ لالی یہ نمی اچھی نہیں لگتی

عاصم نقوی
٣:٤٠ صبح
١٣/٠٩/٢٠١٥ 

No comments:

Post a Comment